28 جون 2026 - 17:00
ترکی سے کشیدگی کے دوران اسرائیلی کابینہ نے آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کر لیا

اسرائیلی کابینہ نے 1915ء کے واقعات کو آرمینیائی نسل کشی قرار دینے کی منظوری دے دی، فیصلہ حتمی منظوری کے لیے کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ترکی اور اسرائیلی رژیم کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیلی کابینہ نے متفقہ طور پر 1915ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں پیش آنے والے واقعات کو آرمینیائی نسل کشی قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔

اسرائیلی ٹی وی چینل آئی 24 کے مطابق، اسرائیلی کابینہ نے ترکی کے ساتھ سفارتی تعلقات پر برسوں تک احتیاط برتنے کے بعد پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر تقریباً 15 لاکھ آرمینی باشندوں کی ہلاکت کو نسل کشی تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد یہ معاملہ حتمی منظوری کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے الزام عائد کیا تھا کہ اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی قیادت کو "خون کی پیاسی اور انتہا پسند ٹولی" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خطے میں کبھی امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتے۔

اردوغان کے ان بیانات کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون ساعر نے آرمینیائی نسل کشی کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی تجویز پیش کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اسرائیلی کابینہ نے اس کی منظوری دے دی۔

دوسری جانب ترکی، جو سلطنتِ عثمانیہ کا جانشین ملک ہے، 1915ء کے واقعات کو آرمینیائی نسل کشی قرار دینے کے مؤقف کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha